شناختی کارڈ کو بھول جاؤ… کسان کارڈ بنواؤ

آئندہ اگر آپ کے پاس کسان کارڈ نہیں ہو گا تو آپ حکومتِ پنجاب کیطرف سے سستی کھاد سکیم، بغیر سُود قرضہ سکیم، رعائیتی ٹیوب ویل و ڈرپ اری گیشن سکیم اور اسی طرح کی دوسری سکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
لہذا کسان کارڈ بنوائیے یہ آپ کے لئے شناختی کارڈ اور اے ٹی ایم کی طرح کام کرے گا۔
کسا ن کارڈ کہاں سے اور کیسے بنوایا جا سکتا ہے؟
کسان کارڈ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ رجسٹریشن فارم حاصل کریں. یہ فارم آپ کو آپ کی تحصیل میں واقع محکمہ توسیع زراعت کے دفتر سے مفت ملیں گے.
فارم لے کر اسے پر کریں.
فارم پر کرنے میں بہت آسان ہے سوائے اس کے کہ آپ کو اس میں اپنے رقبہ جات کا کھاتہ نمبر، مربع نمبر اور کلہ نمبر درج کرنا ہو گا. عام طور پر کاشتکار اپنے ذاتی رقبے سے متعلق یہ معلومات جانتے ہی ہوتے ہیں لیکن اگر یہ معلومات آپ کے پاس نہ ہو تو آپ پٹواری سے حاصل کر سکتے ہیں.
اس کے بعد آپ نے اس پُر شدہ فارم کی تصدیق اپنےگاؤں کا نمبردار سے کروانی ہے. نمبردار سے تصدیق کروانے کے بعد آپ کو اس فارم کی آخری تصدیق اپنے حلقے کے پٹواری سے کروانا ہو گی..
ان دو تصدیقوں کے بعداب آپ یہ فارم واپس محکمہ زراعت (توسیع) کے دفتر میں جمع کروا دیں گے.
سمجھ لیں کہ آپ کی تصدیق ہو چکی ہے.
محکمہ زراعت کا عملہ اپنے طور پر آپ کی معلومات کی کمپیوٹرائزڈ تصدیق نادرا کی ویب سائٹس سے کر کے آپ کی رجسٹریشن کر دے گا.
اسی رجسٹریشن کی بنیاد پر آپ کو مستقبل قریب میں اے ٹی ایم کی طرح کا ایک کارڈ جاری ہو گا. جس کی مدد سے آپ حکومتَ پنجاب کی تمام سکیموں سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں گے.
تو اگر آپ پیچھے رہ گئے ہیں تو آج ہی فارم حاصل کر کے یہ عمل مکل کیجئے.
البتہ کارڈ کب ملے گا اس کے لئے ایگری اخبار وزٹ کرتے رہیئے.

بشکریہ
محمد عامر اقبال زراعت آفیسر

Share Please

2 تبصرے “شناختی کارڈ کو بھول جاؤ… کسان کارڈ بنواؤ

  1. میں یہ پلانٹ لگانا چاہتا ہوں اگر آپ لوگ ہیلپ کرین تو میں کامیاب ہو جائوگا موبائل نمبر 03463636032

    1. اسلام و علیکم
      آپ نے گڑ بنانے والے آٹو میٹک پلانٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
      انجینئر ڈاکٹر اظہر اور ایگری اخبار نے اب تک جو معلومات حاصل کی ہے اس کے مطابق انڈیا اور چائنہ سے یہ پلانٹ منگوانا انتہائی مہنگا سودا ہے۔
      ہماری کوشش ہے کہ یہ پلانٹ پاکستان میں تیار کئے جائیں۔
      انجینئر اظہر کا خیال ہے کہ اگر ہم ایک پلانٹ باہر سے منگوا لیں تو پھر دیگر پلانٹ ہم زیادہ کامیابی سے پاکستان میں بنا سکتے ہیں۔
      لہذا باہر کی پارٹیوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
      زیادہ تر کسان بھائی ریٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انجینئر اظہر ریٹ کے اوپر کام کر رہے ہیں۔ ٓپ کو معلوم ہے کہ جب ایک چیز بالکل صفر سے شروع کرنی ہو منصوبہ بندی میں کچھ وقت لگتا ہے۔
      باہر سے بھی اگرپلانٹ منگوانا ہو تو پاکستان میں اس کو چالو کرنے میں کم از کم چار مہینے لگیں گے۔
      لہذا یہ بات ذہین میں رہے کہ یہ منصوبہ اگلے سیزن کے لئے ہے۔
      جیسے ہی ہممنصوبہ بندی فائنل کریں گے آپ سے رابظہ کر لیا جائے گا۔
      بہت شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں