عالم لوہار، بالی جٹی اور ثقافتی قبرستان

ڈاکٹر شوکت علی
گزشتہ دنوں بی بی سی کی ایک ریڈیو ڈاکومینٹری نظر سے گزری۔ جس میں بالی جٹی کی زندگی اور موسیقی پر مختصر بات کی گئی تھی۔ میرے لئے اس ڈاکو مینٹری میں سب سے حیرانی کی بات یہ تھی کہ بالی جٹی ابھی تک حیات ہے۔نہ صرف حیات ہے بلکہ داستانِ مرزا صاحباں گاتے ہوئے اس کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔اور چمٹے کی لَے سارے ماحول میں خوبصورت ارتعاش پیداکر رہی ہے۔ ڈاکومینٹری میں البتہ اس بات کا تذکرہ نہیں تھا کہ آج سے 40سال پہلے بالی جٹی،عالم لوہار کے ساتھ تھیٹروں میں گایا کرتی تھی۔یہ تھیٹر کا زمانہ تھا۔ پنجابی دیہات میں لوگوں کی واحد انٹرٹینمنٹ میلے ٹھیلے اور میلوں میں سجنے والے یہی تھیٹر ہوتے تھے۔اور عالم لوہار کا تھیٹر ان میں سے چوٹی کا تھیٹر ہوا کرتا تھا جس کی گونج پنجاب کے پانچ دریاوں کے اندر اور باہر بسنے والوں کو سنائی دیتی تھی۔
عالم لوہار کو اس جہان سے گزرے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔1979میں ایک کار حادثے میں ان کا انتقال ہوا۔ اور ان کے انتقال کے ساتھ ہی پنجاب کی لوک موسیقی کا ایک درخشاں اور منفرد باب یوں سمجھئے کہ بند ہو گیا۔
کیا ہماری نئی نسل اس بات سے واقف ہے کہ عالم لوہار کتنا بڑا فنکار تھا؟ اس کی موسیقی کے موضوعات کیا تھے؟ اس کے انداز میں کونسی خاص بات تھی کہ پنجاب کے اندر اور باہربسنے والے عالم کی آواز پر جھوم اٹھتے؟ کیا عالم لوہارکو دنیا سے گزرے سینکڑوں سال ہو گئے کہ ہماری نئی نسل کو اسے بھول جانا چاہیے۔
ابھی اس وطن میں لاکھوں لوگ زندہ ہوں گے جو عالم لوہار کو سننے پنجاب کے روائتی میلوں میں جاتے رہے ہوں گے۔عالم انہی میلوں ٹھیلوں میں اپنے تھیٹر جمایا کرتے جہاں دیہاتیوں کے جوق در جوق اسے سننے کے لئے جمع ہوتے۔ میں نے ان میلوں کا ذکر اپنے گاوں کے چوپال میں بزرگوں کی زبانی سنا ہے۔ میلے کا ذکرہو لیکن عالم لوہا ر اور بالی جٹی کی بات نہ ہو، چوپالی گفتگو میں ایسا ممکن نہیں تھا۔
عالم لوہار 1928میں ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی لوک موسیقی کی طرف مائل ہو گئے۔ پنجاب کی لوک داستانوں کو تھیٹر کی گیت کاری بنانے کا سہرا عالم لوہار کے سر جاتا ہے۔ اس سے پہلے یہ داستانیں دیہاتی پنجاب کے چوپالوں میں پڑھی جاتی تھیں۔ گاوں کا کوئی خواندہ شحص نیم موسیقانہ انداز میں داستان پڑھتا اور اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سامعین مضامین کی داد دیتے۔ چوپال میں پڑھی جانے والی داستانوں میں وارث شاہ کی لکھی ہوئی داستان ہیر رانجھا مقبولِ عام تھی۔ اس کے علاوہ سسی پنوں، لیلی مجنوں، سوہنی مہینوال،شیریں فرہاد، مرزا جٹ اور سیف الملوک کی داستانیں سننا سنانا بھی عام تھا۔
عالم لوہار کو سیف الملوک (تصوف جس کا موضوع ہے)سب سے زیادہ پسند تھی۔جسے وہ اپنے تھیٹر میں گایا کرتے تھے۔لیکن داستان مرزا صاحباں عالم لوہار کا طرہ امتیاز تھا۔ داستان مرزا کے کاٹ دار مصرعے جب عالم لوہار کی گرجدار آواز سے ادا ہوتے تو بہہ جا بہہ جا ہو جاتی۔
خاص طور پر جب مرزا، صاحباں سے مخاطب ہو تا کہ۔۔۔۔۔
سوں جا نال یقین دے رنے خوف ذرا نہ رکھ
میں کھبرو داناں باد دا میری شیراں ورگی اکھ
کنڈ دے جا تیرے ویر نوں کوں آکھو مرزا جٹ
حقیقت یہ ہے کہ عالم لوہار کے منفرد انداز اور بلند کھرج کی آوازنے ایک عالم کو ان کا دیوانہ بنا دیا تھا۔
میرے دادا اور میرے والد (دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں) اپنے اپنے وقت میں عالم لوہا ر کو سننے نزدیکی میلے میں جایا کرتے تھے۔ اس میلے کا نظارہ میں نے بھی دیکھا ہوا ہے۔ لیکن جب میں نے ہوش سنبھالا تو عالم لوہار اس دنیا میں نہیں تھے۔ میں نے عالم لوہار کے شاگردوں، امین لوہار اور عاصم لوہار کو تھیٹروں میں گاتے سنا ہے۔ لیکن جو احوال عالم لوہار کی گائیکی کا سن رکھا تھا ویسا لطف عالم کے ساتھ ہی ممکن تھا۔ میرے بزرگ جس انداز سے عالم لوہار کی گایکی کا ذکر کرتے، میں محسوس کر سکتا ہوں کہ عالم لوہار کی حادثاتی موت کی خبر نے انہیں کس قدر رنجیدہ کیا ہو گا۔

آج عالم لوہار کا ایک حوالہ ان کے بیٹے عارف لوہا ربھی ہیں۔ لیکن بالی جٹی تو عالم کے ساتھ کا جوڑ تھا۔ عالم لوہار جب بھی دو گانہ گاتے تو بالی جٹی ان کا ساتھ دیتی۔بالی جٹی کے ساتھ عالم لوہار کے کتنے ہی دوگانے زبان زد عام تھے۔ خاص طور پر۔۔۔۔ سڑکے سڑکے جاندی اے مٹیارے نی۔۔۔ پانی دا گھٹ پلا دے بانکی اے نارے نی۔۔۔۔ اپنے وقت کا مقبول عام گیت تھا۔
میں سوچ رہا ہوں کہ پنجاب کی ثقافتی تاریخ کے اتنے اہم کردارآج کے میڈیا کی نظروں سے کیوں اوجھل ہیں۔ بی بی سی کی دریافت کے بعد ہو سکتا ہے کچھ چینل خبر بنانے کے لئے دوڑ پڑیں لیکن ثقافت کی اہمیت تو خبر سے کہیں زیادہ ہے۔
روسا امریکہ میں رہنے والی کالی خاتون تھی جس نے کسی گورے کے لئے بس کی سیٹ خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں اس پر مقدمہ ہوا اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور اس مسئلے کو ایک تحریک کی شکل دیتے ہوئے کالوں کی برابری کے حقوق کا علم بلند کر دیا۔ روسا نے جس بس کی سیٹ سے اٹھنے سے انکار کیا، 70سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی وہ بس امریکہ کے ایک عجائب گھر میں پڑی ہے۔ صدر اوبامہ نے 2013میں اس بس میں بیٹھ کر اسی انداز میں تصویر بنوائی جس انداز میں روسا بیٹھی تھی۔ شہر میں روسا کے اعزاز میں ایک مجسمہ نصب کیا گیا تاکہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ روسا کون تھی۔
تاریخ، سیاسی ہو یا ثقافتی دونوں کی الگ الگ برابر اہمیت ہے۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ عالم لوہار جس چمٹے کے ساتھ گایا کرتے تھے وہ چمٹا کہاں ہے۔ جو گاڑی ان کے زیراستعمال تھی وہ گاڑی کہاں ہے۔ اس نے 13سال کی عمر میں جو اپنا پہلا میوزک البم ریکارڈ کروا یا وہ ریکارڈ پر ہے یا نہیں۔ اس نے زندگی میں کتنے البم ریکارڈ کروائے اور کس البم پر کو ن سی تصویر چھپی، کیا یہ ریکارڈ محفوذ نہیں ہونا چاہیے۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ عالم لوہا ر کہاں دفن ہیں اور آجکل ان کی قبر کی کیا حالت ہے۔
عالم لوہار کے انتقال پر قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور نشریاتی اداروں نے جو تعزیتی پیغامات نشر کئے وہ پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ کتنا بڑا فنکار تھا جو مر گیا۔پاکستان ٹیلی ویژن پر اس وقت جو پروگرام نشر ہو رہے تھے وہ بتا رہے تھے کہ زمانہ عالم لوہار کو صدیوں یاد رکھے گا۔ تو پھر کیا ہوا، ابھی تو عالم لوہار کو گزرے 40برس بھی نہیں ہوئے اور کم لوگ رہ گئے ہیں جو عالم لوہار کے مقام سے واقف ہوں۔ دراصل جب عالم لوہار کو لالہ موسی کے نواحی گاوں میں دفنایا جا رہا رہا تھا تو ہم نے اپنے ثقافتی احساس کو بھی اس کے ساتھ ہی دفن کر دیا تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر ہم نے بالی جٹی کو زندہ درگور کر دیا۔ یہ دراصل ہم اپنے مشاہیر کو دفن نہیں کر رہے بلکہ اپنی ثقافتی تاریخ کو دفن کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ثقافتی طور پر خود کفیل ہوتے ہوئے بھی غیروں کی ثقافتی کاسہ لیسی اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں