جانوروں کے شناختی کارڈ: مزاحیہ انداز میں لکھا گیا دلچسپ کالم

گلِ نوخیز اختر

سندھ حکومت نے جانوروں کے بھی شناختی کارڈ جاری کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ خبر کے مطابق جب کسی بکرے دنبے یا گائے وغیرہ کاشنا ختی کارڈ بن جائے گا تو اس کے بعد اس کے بیرون ملک سفرپر بھی تمام دستا ویزات لاگو ہوں گی یعنی پاسپورٹ بنے گا اور ویزا لگوانا پڑے گا. تا ہم یہ نہیں بتایا گیا کہ جانوروں کو ویزا لگوانے کے لئے ایمبیسی جانا پڑے گا یا ایمبیسی خود جانور کا انٹرویو کرنے آئے گے. کیا خوبصورت منظر ہوگا جب نادرا کے دفتر کے باہر بکروں، کتوں، بلیوں سانڈوں وغیرہ کی لائن لگی ہوگی۔ ہرجانور کے ہاتھ میں ایک فارم ہوگا جو یقینا 17 گریڈ کے کسی بھینسے سے تصدیق شدہ ہوگا۔ اندر ہال میں سب جانور جانوروں کی طرح بھرے ہوں گے۔ باری باری سب کا ٹوکن پکارا جاۓ گا۔ زنانہ جانوروں کے لئے سٹاف بھی زنانہ رکھنا پڑے گا تاکہ کوئی بکرا کسی بکری کی عزت نفس مجروح نہ کر سکے. ہوسکتا ہے ”لیڈیز” کے لئے جمعہ کا دن مختص کردیا جائے۔ یقیناََ جانوروں کے شناختی کارڈ پر اُن کی تصویر بھی ہوگی اور یہ تصویر ہرجانورکوانسانوں والے گھٹیا ترین ویب کیمرے سے کھنچوانی پڑے گی۔ سب سے اہم مسئلہ جانوروں کی ولدیت کا ہوگا ۔جانور چونکہ اس حوالے سے ایک ہی پیج پر ہیں لہذا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو جس کو اپنا والد گرامی قرار دے اُس کا موقع پر ہی ڈی این اے کرلیا جائے۔لیکن ایک مسئلہ ہے جس بکری یا بکرے کے ابا حضور عیدالاضحی پر قربان ہوچکے ہوں وہ بچاری کیا کرے گی؟ میرا خیال ہے اس حوالے سے جانور کے بیان حلفی پر اکتفاکرنا چاہے اور زیادہ چھان بین وغیرہ کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہے۔ جانوروں کو اپنے شناختی کارڈ بنوانے کے لئے انسانوں والی مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔ انہیں برتھ سرٹیفکیٹ نہیں دینا پڑے گا، میٹرک کی سند نہیں لگانی پڑے گی بلکہ شائد انگوٹھا بھی نہ لگانا پڑے۔ لیکن آگے چل کر جب یہ سلسلہ پھیلے گا تویقیناََ جانوروں کی بھی بائیومیٹرک تصدیق ہوا کرے گی۔ فی الحال تو یہ ڈسکس کرتے ہیں کہ جانوروں کا شناختی نشان کیسے تلاش کیا جائے گا کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر جانور کاشناختی نشان اس کے چہرے یا پیٹ پرہی ہو………کئی نشانات پاؤں پربھی ہوتے ہیں. یہ مرحلہ مکمل ہوگاتو دس پندرہ دن کے بعد متعلقہ جانورکودس پندرہ دنوں بعد شناختی کارڈ جاری کردیا جائے گا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ شناختی کارڈ جانور اپنے پاس رکھے گا یا مالک۔ میرا خیال ہے کی کہ مالک کا شناختی کارڈ اپنے پاس رکھنا غلط بات ہے جو چیزجس کی ہےاس کے پاس ہی ہونی چاہے۔ اس مقصد کے لئے جانوروں کو ایک پاکٹ لگا دینی چاہیے جس میں ان کے اوریجنل شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ پانچ عدد فوٹو کاپیاں بھی رکھی ہوں کہیں بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔
پھر اخباروں میں بھی کچھ اس قسم کے اشتہارات شائع ہوا کریں گے”میرا شناختی کارڈ گم ہوگیا ہے جس کو ملے وہ براہ کرم لیٹربکس میں ڈال دے . . . منکو بندر . . مجھے سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہے کہ انسانوں کے تو نام ہوتے ہیں جانوروں کے نام والے خانے میں کیا لکھا جائے گا۔ کیا شترمرغ کا نام صرف شترمرغ ہی ہوگا؟ اس طرح تو بڑی کنفیوژن پیدا ہوجائے گی۔ زیادہ بہتر ہے کہ ہرجانورکوایک نام بھی دیا جائے مثلاََ ببلی بلی، راکی کتا، رانی لومڑی وغیرہ۔ ویسے تو ہر جانور کے مالک نے اپنے جانور کا کوئی نہ کوئی پیار کا نام رکھا ہوا ہوتا ہےلیکن بعض نام بڑے گڑ بڑ والے ہوتےہیں. میرے ایک دوست کے پاس ایک لمبا تڑنگا کتا ہے جسے وہ پیار سے ٹائگر کہتا ہے. ظاہری بات ہے کتے کے شناختی کارڈ پر ٹائیگر تونہیں لکھوایا جاسکتا۔ کئی لوگوں نے اپنے جانوروں کے انسانوں والے نام بھی رکھے ہوتے ہیں مثلاً ٹونی، جیرا وغیرہ……………. یہ نام بھی ڈسٹربنس کا باعث بن سکتے ہیں لہذا زیادہ بہتر یہی ہے کہ ہر جانور کی جنس کے ساتھ اس کا پن کوڈ لکھ دیا جائے مثلاََ زرافہ 007، دریائی گھوڑا 420‘ زیبرا 302′ ہاتھی 125………….!!! اس طرح جانوروں کی مردم شماری میں بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور اگلے مرحلے پر ان کی حلقہ بندیوں میں بھی آسانی رہے گی۔ جانوروں کے شناختی کارڈ بننے سے یقینا آئندہ زندگی میں اُن کے رشتے وغیرہ کرنے میں بھی آسانی رہے گی دومنٹ میں پتا چل جایا کرے گا کہ کون سا جانور خاندانی ہے اورکون بہت زیادہ خاندانی۔نئی پیدائش کا ریکارڈ بھی رکھا جانے لگےگا . جانوروں کے بچوں کے”ب فارم” بھی بنیں گے – – – -لیکن کچھ جانوروں کے لئے ب فارم کافی نہیں ہوگا‘اُن کے لئے پ ت ٹ ث ج چ فارم بھی ہونا چاہے۔ میری تو سندھ حکومت کو تجویز ہے کہ جانوروں کے شناختی کارڈ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں نمبرپلیٹس بھی لگوائیں۔ اس کا بڑا فائدہ ہوگا‘ عام طور پر جب کسی کوکوئی کتا کاٹ کر بھاگ جاتا ہےتو پتا لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون ساکتا تھا۔ نمبر پلیٹ لگی ہوگی تو آسانی سے پتا چل جایا کرے گا کہ شکیل کو”3536 LXN” نے کا ٹا ہے! بہرحال چونکہ ابھی بات صرف شناختی کارڈ تک محدود ہے لہذا ابھی آگے کا مشورہ دینا بے کار ہے۔ شناختی کارڈ بننے کے بعد ہرجانور پاکستان کا معزز جانور تصور ہوگا۔ جس جانور نے باہر کے ملک جانا ہوگا وہ پہلے اپنا پاسپورٹ بنوائے گا۔گائے بھینسوں کے پاسپورٹ پر خاص طور پر لکھا ہوگا ”یہپاسپورٹ سوائے انڈیا کے دنیا کے تمام ممالک کے لئے کارآمد ہے”۔ ایک بار شناختی کارڈ بن جائے تو پھر پاسپورٹ بھی بن ہی جاتا ہے لہذااگلامرحلہ ہوگا“ویزا لگوانے کا…………..!!! تصور کیجئے کہ گھوڑا اپناویزا لگوانے تھائی لینڈ کی ایمبیسی پہنچا ہوا ہے اور کاؤنٹرپر بیٹھی ہوئی گھوڑی اُس سے پوچھتی ہے کہ تم تھائی لینڈ کیوں جانا چاہتے ہو؟ گھوڑا بے بسی سے جواب دیتا ہے کہ”بی بی میرا ہی تو جانا بنتا ہے”۔ چیمپینزی امریکہ کا ویزا لگوانے پہنچا ہوگا اور وجہ یہ بتائے گا کہ میں اپنے بڑے ”بھائی” سے ملنے جارہا ہوں۔ بھیڑیں خلیج کے سفرکوترجیح دیں گی تاکہ”او آئی سی“ کا اجلاس دیکھ لیں۔ اونٹ انگلینڈ ایمبیسی میں یقین دہانیاں کروا رہا ہوگا کہ میں اک دن لوٹ کے آ ج جاؤں گا۔ گینڈا شمالی کوریا جانے کے لئے تڑپ رہا ہوگا۔ جانوروں کے ویزے لگنے میں اگر مشکلات پیش آئیں تو کوئی بعید نہیں کہ اینیمل سمگلر بھی وجود میں آ جائیں اور جانوروں کو انسانوں کی طرح کنٹینروں میں بھر کر یونان کے راستے یورپ پہنچانے کاکام شروع ہوجائے۔ پھر جانور بھی یورپ اور امریکہ جائے کے لئے نئے نئے حربے اختیار کریں گے. پنا چلے کہ بھالو نے کینیڈا میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔ جانوروں کے بعد اگر سندھ حکومت پرندوں اور حشرات الارض کے بھی شناختی کارڈ جاری کردے تو یقینا ایک اور تہلکہ خیزکام ہوگا۔ مچھروں کے گلے میں اگر شناختی کارڈ لٹکا ہوا ہوگا تو ایک سیکنڈ میں پتا چل جایا کرے گا کہ یہ مچھر کل والا ہے یا نیا آیا ہے۔ سانپ کود یکھتے ہی اندازہ ہوجاۓ گا کہ یہ بسنے والا ہے یا ڈ سے والا۔ شناختی کارڈ کے بغیر گھومنے والے مشکوک بچھوکودیکھ کر فورا پولیس کو اطلاع دی جا سکے گی۔ سندھ حکومت کو چاہے کہ شناخت کے اس عمل کے لئے قبلہ قاسم علی شاہ صاحب کے دوہزارسالہ تجربے سے ضرور استفادہ کرے بہت فائدہ ہوگا۔

شکریہ دنیا نیوز

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں