یکم اپریل سے قبل کپاس کی کاشت پر پابندی: وجہ کیا ہے؟

حکومتِ پنجاب نے یکم اپریل سے قبل کپاس کی کاشت پر دفعہ 144 کے تحت مکمل پابندی عائد کر دی ہے.
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
بنیادی بات سمجھنے والی یہ ہے کہ کپاس کی دوسری سنڈیوں کے برعکس، گلابی سنڈی کپاس کے علاوہ کسی دوسرے پودے پر زندہ نہیں رہ سکتی.
عام طور پر یہ سنڈی کپاس کے ٹینڈے میں باریک سوراخ کر کے اس میں گھس جاتی ہے. سوراخ باہر سے بند ہو جاتا ہے اور یہ ٹینڈے کے اندر مزے سے بیج وغیرہ کھاتی رہتی ہے.

گلابی سنڈی ٹینڈے میں گھس رہی ہے

جب کپاس کی چنائی وغیرہ ختم ہو جاتی ہے تو کاشتکار کپاس کی چھڑیاں کاٹ کر ایک ڈھیر لگا دیتے ہیں.
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سنڈی صرف اور صرف کپاس کے پودے پر زندہ رہتی ہے. اس لئے جب کپاس کی چھڑیاں کاٹ کر کھیت میں گندم یا سرسوں وغیرہ کاشت کر جاتی ہے اور گلابی سنڈی کے کھانے کے لئے کچھ نہیں بچتا، تو اس سنڈی کے لئے مشکل پیدا ہو جاتی ہے. لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حالات میں یہ سنڈیاں مرتی نہیں ہیں.

یہ سنڈیاں کہاں جاتی ہیں؟

قدرت نے گلابی سنڈی کے اندر ایک عجیب بات رکھی ہے. جب کپاس کی چھڑیاں کاٹ لی جاتی ہیں تو یہ سنڈی ٹینڈوں اور زمین میں چھپ کر بالکل اسی طرح سو جاتی ہے جس طرح مینڈک سردیاں آتے ہی زمین میں چھپ جاتے ہیں اور مہینوں تک سوئے رہتے ہیں..
سردیاں آتے ہی تقریباََ 70 فیصد سنڈیاں ٹینڈوں میں اور 30 فیصد زمین میں چھپ جاتی ہیں.
ٹینڈوں میں یہ سنڈی بیج کے اندر چھپتی ہے.
آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہو گا کہ اتنی بڑی سنڈی چھوٹے سے بیج میں کیسے چھپ جاتی ہے؟
یہ سنڈی کرتی دراصل یہ ہے کہ دو بیجوں کو جوڑ کر انہیں اندر سے کھوکھلا کر کے اپنا گھر بنا لیتی ہے اور وہاں اگلے چار مہینوں کے لئے سو جاتی ہے.

گلابی سنڈی نےدو بیج جوڑ کر اپنا گھر بنایا ہوا ہے

اس طرح سونے سے سنڈی کو دو فائدے حاصل ہوتے ہیں.
ایک تو یہ سردی سے بچی رہتی ہے اور دوسرے سوئے رہنے کی وجہ سے اسے خوراک کی بھی ضرورت نہیں پڑتی.
بیجوں میں چھپی ہوئی سنڈی کی صورت نیچے دی گئی شکل کی طرح ہوتی ہے. اور بالکل اسی شکل کی سنڈی زمین میں بھی چھپی ہوتی ہے.

زمین میں ہل چلانے سے یہ سنڈی اوپر آ جاتی ہے اور اسے پرندے وغیرہ کھا جاتے ہیں

جیسے ہی فروری مارچ میں سردی کی شدت کم ہوتی ہے تو یہ سنڈی پروانے کی شکل میں ٹینڈے سے باہر نکل آتی ہے.

سنڈی فروری مارچ میں پروانے کی شکل میں ٹینڈے سے باہر نکل ٓتی ہے

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سنڈی سے پروانہ کیسے نکل آتا ہے. اس پر زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں. اگر انڈے سے بچہ نکل سکتا ہے تو سنڈی سے پروانہ کیوں نہیں نکل سکتا. یہ قدرت کے کام ہیں. سنڈی پہلے کھجور کی گھٹلی کی طرح ہو جاتی ہے اور پھر اس گھٹلی سے پروانہ نکل آتا ہے.
بہرحال فروری مارچ میں اگر سنڈی کو باہر نکلتے ہی کپاس کے پودے مل جائیں تو یہ پودے کی نرم نرم کونپلوں پر انڈے دے دیتی ہے جن سے سنڈیاں نکل کر کپاس کے پودوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں.
لیکن اگر فروری مارچ میں کپاس کے پودے کھیت میں موجود نہ ہو ں تو فاقے کی وجہ سے یہ سنڈیاں مر جاتی ہیں.
اس طرح موسم بہار میں پیدا ہونے والی گلابی سنڈیوں کی پوری کی پوری نسل فاقہ کشی کا شکار ہو بغیر کسی سپرے وغیرہ کے مر جاتی ہیں.
لہذا اگر کاشتکار حضرات فروری مارچ میں کپاس کاشت نہ کریں تو گلابی سنڈی سے بڑی حد تک چھٹکارا ممکن ہے.
یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے یکم اپریل سے قبل کپاس کی کاشت پر دفعہ 144 کے تحت مکمل پابندی عائد کر دی ہے.
یہ ایک درست فیصلہ ہے اور راقم اس کی مکمل تائید کے ساتھ ساتھ کاشتکار حضرات کو یہ مشورہ دیتا ہے. کہ وہ اس فیصلے پر عمل کر کے کپاس کے سر سبز کھیتوں کو گلابی سنڈی کے خطرناک حملوں سے محفوظ رکھیں.

اس مضمون پر اپنی رائے دینے کے لئے یا ایگری اخبار سے رابطے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک Load/Hide comments پر کلک کریں

تحریر:
ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

راقم، یہ مضمون لکھنے کے لئے ڈاکٹر محمد ارشد، ،ماہرِ حشریات، کی علمی معاونت پر ان کا بے حد مشکور ہے.

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں