نئی یا پرانی؟ کپاس کی کونسی ورائٹی بہتر ہے.

سال 2018 میں محکمہ زراعت، کپاس کی کل 35 منظور شدہ ورائٹیاں کاشت کے لئے سفارش کر رہا ہے. اس کے علاوہ مزید کوئی 15 کے قریب ایسی ورائٹیاں ہیں جو غیر منظور شدہ ہیں لیکن مارکیٹ میں گردش کر رہی ہیں. اس طرح کل ملا کر 50 کے قریب ورائٹیاں ہیں جن میں سے کاشتکار نے دو یا تین ورائٹیوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے.

ان 50 میں سے کن دو یا تین ورائٹیوں کا انتخاب کرنا چاہئیے؟
اس حوالے سے زیادہ تر کسان گو مگو کا شکار ہوتے ہیں. لہذا جب وہ بیج خریدنے کے لئے مارکیٹ میں جاتے ہیں تو زیادہ تر ڈیلر یا آڑھتی حضرات اپنے کاروباری مفاد کو دیکھتے ہوئے کوئی نہ کوئی ورائٹی کسان کے پلے باندھ دیتے ہیں.
آڑھتی یا ڈیلر کے مشورے سے بیج خریدنے والے زیادہ تر کسان اس بات سے بھی واقف نہیں ہوتے کہ جس ورائٹی کو انہوں نے پوٹلی میں‌باندھ لیا ہے وہ منظور شدہ بھی ہے یا کہ نہیں.
کسانوں کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو ہمیشہ نئی ورائٹی کی طرف بھاگتا ہے. اس طرح کے کسان سندھ کی نسبت پنجاب میں زیادہ پائے جاتے ہیں.
ایسے کسان اس مغالطے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ نئی ورائٹی پیداوار کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے گی.
بات کچھ یوں ہے کہ نئی ورائٹیاں زیادہ تر غیر منظور شدہ ہوتی ہیں. لہذا نئی ورائٹی کے چکر میں کسان ایک تو غیر منظور شدہ اور غیر آزمودہ ورائٹی حاصل کرتا ہے اور دوسرے وہ اس کے مہنگے دام ادا کرتا ہے.

پنجاب میں زیادہ تر کاشتکار نئی ورائٹی کی طرف کیوں بھاگتے ہیں؟

نئی ورائٹی کی طرف بھاگنے والے زیادہ تر کاشتکاروں کے ذہن میں دو باتیں ہوتی ہیں.
نمبر1.
ایک تو کسان یہ بات سوچ رہے ہوتے ہیں کہ نئی ورائٹی کاشت کر کے وہ بیج بنا لیں گے اور اگلے سال یہی بیج فروخت کر کے دوگنا منافع کمائیں گے. لیکن اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ کسان دوگنا منافع کمانے کے مقصد میں کامیاب ہو سکے. اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر جو ورائٹی کسان نے کاشت کی ہوتی ہے اگلے سال مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ ہی پیدا نہیں ہوتی. اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ اگر آپ نے 10 نئی ورائٹیاں لگائی ہیں تو ان میں سے دو یا تین ورائٹیاں ہی ایسی نکلیں گی جنہیں اگلے سال کسان ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہوتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ دو چار ورائٹیاں کاشت کرنے والوں کا بیج بیچنے والا خواب ادھورا رہ جاتا ہے. مگر ہاں یہ جوا ہے اور کسی سال لگ بھی سکتا ہے.
نمبر2.
کچھ کسانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے گاؤں یا علاقے میں کاشتکاری کے حوالے سے وہ سب سے آگے رہیں. لہذا اس چوہدر کے چکر میں وہ ہر سال کوئی ایسی چیز ڈھونڈ لاتے ہیں جسے دیکھنے والے رشک کی نگاہ سے دیکھیں اور بے اختیار کَہ اٹھیں کہ واہ جی واہ چوہدری صاحب زراعت تو آپ کر رہے ہیں. ہم تو بس کھیتی کو دھکا لگا رہے ہیں. لہذا کاشتکاروں کے دل میں مچلنے والی یہ معصوم خواہش انہیں نئے بیج کا کاروبار کرنے والوں کا گاہک بنا دیتی ہے. ایسے کاشتکاروں کی شرح بھی سندھ کی نسبت پنجاب میں زیادہ ہے.

پنجاب میں کاشت ہونے والی ورائٹیاں کتنی پرانی ہیں؟

اگر ہم پنجاب میں کاشت ہونے والی منظور شدہ ورائٹیوں پر نظر دوڑائیں تو صرف ایک ورائٹی ہے جو محض 5 سال پرانی ہے. باقی تمام ورائٹیاں ایک، دو یا چار سال پرانی ہیں.
اگر کوئی ورائٹی اچھی ہے تو دو یا تین سال ورائٹی کی کوئی عمر نہیں ہے. کپاس کی ورائٹیاں دس دس سال تک چل سکتی ہیں اور بہترین پیداوار دیتی ہیں.
لیکن پنجاب میں کسان دو تین سال ہی ورائٹی لگا کر تھک جاتا ہے اور پیداوار کم ہونے کی تمام تر ذمہ داری ورائٹی پر ڈال کر نئی ورائٹی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے.
لہذا دیکھا جائے تو پنجاب میں نئی ورائٹیوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے. اور اس دوڑ میں سیڈ کمپنیاں ہمیشہ نفع میں اور کسان ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے.
نئی ورائٹی کی مشہوری کرنے یا بیچنے میں سیڈ کمپنیوں کا کیا فائدہ ہے؟

پنجاب میں اگر آپ کپاس کی منظور شدہ ورائٹیوں کی قیمتوں کو دیکھیں تو آپ کو کسی بھی اچھی ورائٹی مثلاََ ایف ایچ-142، ایم این ایچ.886، ایف ایچ.لالہ زار یا آئی یو بی.2013 وغیرہ کی 5 کلو والی تھیلی ہزار بارہ سو تک مل جائے گی.
لیکن ایسی غیر منظور شدہ ورائٹیاں جنہیں نئی ورائٹیوں کے طور پر بیچا جا رہا ہے ان کی 5 کلو کی تھیلی آپ کو پندرہ سو دو ہزار روپے سے کم نہیں ملے گی.
یعنی نئے بیج کے کاروبار میں کمپنیاں اچھا خاصا منافع اینٹھ رہی ہوتی ہیں.
یہی وجہ ہے کہ کپاس کی بجائی سے پہلے سیڈ کمپنیاں نئی ورائٹیوں کی فلم چلانا شروع کر دیتی ہیں. اور ہر نئی ورائٹی (جوکہ عام طور پر غیر منظور شدہ ہوتی ہے) کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں. کمپنیوں کی کوشش ہوتی ہیں کہ کسان کو نِت نئی ورائٹی کے چکر میں ڈال کر اسے مہنگے داموں بیج فروخت کیا جائے.
اس نفع خوری میں سارا قصور کمپنیوں کا بھی نہیں ہے. جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ کسان خود اس نئی ورائٹی کے جال میں پھنسنا چاہتا ہے اور کمپنیوں کو بعض اوقات مجبور کر دیتا ہے کہ وہ نئی ورائٹیاں بھی اپنی پٹاری میں رکھیں. اس سے ایک تو کمپنیاں کسان کی معصوم خواہش پوری کرنے کے قابل رہتی ہیں اور دوسرے ان کے منافع میں بھی دو چند اضافہ ہو جاتا ہے.

نئی ورائٹیوں کے کاروبار سے سائنس دانوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟

نئے بیج کا کاروبار کرنے کے لئے کمپنیوں کو وقت سے پہلے نئی ورائٹیوں کا بیج درکار ہوتا ہے. تاکہ آئندہ سال کے لئے بیج تیار کیا جا سکے.
کمپنیوں کی یہی ضرورت انہیں زرعی تحقیقی اداروں میں سائنس دانوں کے پاس لے جاتی ہے. جہاں وہ سائنس دانوں کی رضاو رغبت حاصل کرنے کے لئے طرح طرح کے پاپڑ بیلتی ہیں.
میرے پاس کوئی ثبوت تو نہیں ہے لیکن یہ بات عام ہے کہ کمپنیاں سائنس دانوں کو معقول رقم دے کر نئی ورائٹیاں حاصل کرتی ہیں. اس طرح ایک تو سائنس دانوں کے کمپنیوں کے مالکان اور نمائندوں کے ساتھ تعلقات استوار ہوتے ہیں. دوسرے بیج کے کاروبار سے وابسطہ حلقوں میں سائنس دانوں کی مشہوری بھی ہوتی رہتی ہے اور تیسرے سائنس دانوں کی جیب میں تنخواہ کے علاوہ بھی آمدن آتی رہتی ہے.

کسان حضرات کے لئے مشورہ

کسان حضرات کو یہ پر زور مشورہ ہے کہ غیر منظور شدہ نئی ورائٹی ہرگز کاشت نہ کریں بلکہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ، اور آزمودہ ورائٹیوں کو کاشت کریں. یاد رہے کہ جب ورائٹی کی پیداواری صلاحیت ختم ہو جاتی یا اس پر کسی بیماری کا حملہ زیادہ ہونے لگ جاتا ہے تو حکومت فوری طور پر اس ورائٹی کو منظور شدہ ورائٹیوں کی فہرست سے نکال دیتی ہے.
لہذا بیج خریدنے کے لئے کسان کا صرف اور صرف ایک ہی نعرہ ہونا چاہیئے.
“صرف نئی نہیں بلکہ اچھی پیداوار والی ورائٹی”
ایک بات اور ذہن میں رہے کہ بہت سی کمپنیاں بس دگڑ مگڑ بیج تیار کرتی ہیں. کوشش کریں کہ صاف ستھرا کام کرنے والی کمپنی کا بیج خریدیں. ورنہ کمپنی تو آپ کو بیج فروخت کر کے پیسے جیب میں ڈال لے گی لیکن بیج نکما ہونے کی صورت میں آپ کی فصل 6 مہینے کے بعد آپ کو ٹھینگا دکھا دے گی. اور خدانخواستہ آپ کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے.
راقم کپاس کے کاشتکاروں کے لئے نیک تمنائیں رکھتا ہے.

اس مضمون پر اپنی رائے دینے کے لئے یا ایگری اخبار سے رابطے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک Load/Hide comments پر کلک کریں

تحریر و تحقیق

ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

Share Please

2 تبصرے “نئی یا پرانی؟ کپاس کی کونسی ورائٹی بہتر ہے.

  1. بہت خوب
    کپاس کا بیج خریدتے وقت فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا نیلے رنگ کا ٹیگ ضرور چیک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں