بجلی بحران اور ہماری تحقیق

ڈاکٹر شوکت علی

میں گزشتہ برس جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا جہاں ایک سرکاری یونیورسٹی نے فخریہ طور پر توانائی بحران سے نمٹنے کا ایک ماڈل نمائش کے لئے پیش کیا تھا اوراس تحقیق کے لئے پاکستان کے ایک سرکاری ادارے نے خاصی بھاری رقم بھی جاری کر رکھی تھی۔
میرے پوچھنے پر پیش کار نے بتایا کہ اس منصوبے میں فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والی حرارت کو استعمال میں لاتے ہوئے بجلی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ کوئی موثر اور دیرپا منصوبہ نہیں ہے۔ لہذا میں نے محقق سے فوٹو وولٹک (شمسی توانائی) اور وولٹ سٹوریج پر تحقیق کرنے کی بجائے پیش کردہ منصوبے کو ترجیح دینے کی وجہ جاننی چاہی جس کا مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔
اسی طرح سے ایک پیٹنٹ رکھنے والا جرمن سائنسدان پاکستان میں تھرمل سولر ٹیکنالوجی کوفروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور پاکستان کا ایک اہم سرکاری ادارہ اس میں تحقیق پر مصروفِ عمل ہے۔اسی ساینسدان نے بھارت میں تھرمل سولر کی مدد سے ایک میگاواٹ کا بجلی کا پلانٹ بھی لگایا ہے۔ صرف ایک میگا واٹ کا!!! جرمنی میں سیمن کی کمپنی میں کام کرنے والے ایک توانائی ماہر نے مجھے بتایا کہ تھرمل سولر ایک مسترد شدہ ٹیکنالوجی ہے۔اور سیمن کا شعبہ توانائی اس منصوبے پر اربوں روپے ڈبو کر اب پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اسی ماہر کے بقول اب تھرمل سولر پر کام کرنے والے ماہرین نے برصغیر کی صورت میں نئی منڈی تلاش کر لی ہے۔ بقول اس کے اس ٹیکنالوجی میں کئی ایک محدودات ہیں جس کے باعث یہ توانائی بحران کا کوئی موثر حل پیش نہیں کر سکتی۔
اسی طرح کی ایک کوشش بایو ماس توانائی ( جس میں پودوں اور جانوروں کی باقیات کو جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے) کے حوالے سے بھی ہو رہی ہے۔ بایو ماس توانائی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی توانائی بحران میں خاطر خواہ کردار ادا کر سکتی ہے لیکن سماجی سائنسدانوں کے اس پر بھی کئی ایک تحفظات ہیں۔ ہمارے دیہی نظام میں کسان کسی صورت بایو ماس جلا کر اس سے بجلی پیدا کرنے کو ترجیح نہیں دے گا۔ اگر وہ گندم کے ناڑوں یا بھوسے کو جلا دے گا تو جانوروں کے لئے بھوسہ کہاں سے لائے گا۔ اسی طرح سے دیہی علاقوں میں کپاس کی چھڑیوں کو گھروں میں چولہا جلانے کے لئے کام میں لایا جاتا ہے۔ یہی معاملہ دیگر باقیات کا ہے۔ ایک لمحے کے لئے اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ کسان باقیات کو جلانے پر رضامند ہو جائے گا تو سوال یہ ہے کہ اس سے کتنی بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی سوال میں نے بایو ماس پر تحقیق کرنے والے ایک پی ایچ ڈی سکالر سے پوچھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اگر ہم پاکستان میں پیدا ہونے والے تمام زرعی بائوماس کو استعمال میں لا کر بجلی پیدا کریں تو زیادہ سے زیادہ چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ پورے پاکسان کا زرعی بائوماس اور صرف چار ہزار میگاواٹ بجلی؟ تو بھئی پھر اتنے تردد کی کیا ضرورت ہے۔
بائو گیس کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت پنجاب اس حوالے سے خاصی پر عزم ہے اور ایک بھاری رقم بائوگیس ٹیوب ویلوں کے فروغ کے لئے مختص کر رکھی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ سرمایہ بھی ڈوب نہ جائے۔ حال ہی میں ایک سماجی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیہات میں گھریلو پیمانوں پر لگائے گئے بائو گیس پلانٹ کافی گوبر نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ کسان گوبر اکٹھا کرنے، اسے ڈھونے اور پھر الٹنے پلٹنے کی مشقت سے تنگ آ کر بہت جلد اس ٹیکنالوجی کے اپناو سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ مزید یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی گیس، جنریٹر کے لئے سخت ناموزوں ہے۔ اگر اس گیس کو صاف کرنے کا پلانٹ لگایا جائے تو یہ ایک مہنگا اور پیچیدہ منصوبہ بن جاتا تو جو اس ٹیکالجی کو اپنانے کے رستے کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے اس بحران کا حل کیا ہے اور ہماری تحقیق کا رخ کیا ہونا چاہیے۔
میرے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ ہماری تحقیق کا رخ شمسی توانائی، ہایڈ رو توانائی اور ونڈ توانائی کی طرف ہونا چاہئے۔
شمسی توانائی میں پائدار حل موجود ہے لیکن اس کے لئے دو پہلو تحقیق طلب ہیں۔ نمبر۱۔ ایک ایسا سولر سیل بنایا جائے جو ہماری آب و ہوا سے مطابقت رکھتا ہو۔ یعنی جب درجہ حرارت زیادہ ہو تو اس کی بجلی بنانے کی صلاحیت کم ہونے کی بجائے بڑھنی چاہیے۔واضح رہے کہ موجودہ سولر سیل میں یہ خامی ہے کہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو اس کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔
نمبر ۲۔
توانائی کو ذخیرہ کرنے کی کوئی سستی اور پائدار ٹیکنالوجی وضع کی جائے۔ توانائی کو ذخیرہ کرنے کا سوال اس وقت توانائی ماہرین کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ بین الا قوامی سطح پربہت سے سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس پر تحقیق کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی بریک تھرُو نہیں ہو سکا۔
توانائی ذخیرہ کرنے کی موجودہ تکنیکیں انتہائی مہنگی اور ناپائدار ہیں۔
یہ بات مائع اور خشک دونوں بیٹریوں کے حوالوں سے کہی جا سکتی ہے۔ البتہ لیتھیم آئن بیٹری (موبائل میں استعمال ہونے والی بیٹری کی ٹیکنالوجی) دیرپا ہے لیکن وہ بہت مہنگی ہے۔ اسے سستا کرنے پر تحقیق ہونی چاہیے۔
اگر ہم رائج سٹوریج سسٹم کو استعمال میں لائیں گے تواس سے بجلی کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ قائد اعظم سولر پارک میں ہم نے یہی کیا ہے جس سے حاصل ہونے والی بجلی کی لاگت بیس روپے فی یونٹ کے لگ بھگ پڑتی ہے۔
لیکن اگرہم سستے اور آب و ہوا سے مطابقت ر کھنے والے سولر سیل بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں توموثر سٹوریج سسٹم نہ ہونے کے باوجود بھی توانائی بحران کےحل میں کامیاب پیش رفت ہو سکتی ہے، جیسا کہ آسٹریلیا اور یورپی ملکوں نے کیا ہے۔یعنی توانائی کو ذخیرہ کرنے کی بجائے براہ راست گرڈ لائن میں ڈال دیا جائے۔ اس سے ایک تودن کے وقت نہائت سستی بجلی حاصل ہو گی اور دوسرے عام آدمی بھی گھریلو سطح پر شمشسی پینل لگا کر حکومت کوسستی بجلی فروخت کر سکتا ہے اور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کو اپنانے کا حکومت نے اصولی فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن پڑے گا کہ اسے نافذ ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے۔
دوسرا حل ہائڈرو توانائی کا ہے۔ آج سے کم و بیش سو سال قبل انگریز سرکار نے چھوٹی اور بڑی نہروں پریہاں پن چکیاں لگائی تھیں۔یعنی پانی کی طاقت سے چلنے والی آٹے کی چکیاں۔ اور ان میں بعض تو آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نہر کے کنارے بھاری پتھروں پر مشتمل پن چکی چل سکتی ہے تو بجلی کی ٹربائن کیوں نہیں چل سکتی؟ خاص طور پر ایسی نہریں جوتقریبا سارا سال چلتی ہیں وہاں تو میں اس کے بڑے قوی امکان دیکھتا ہوں۔مثلا ضلع اوکاڑہ میں رینالہ خورد کے مقام پر موجود ہائڈل پاور سٹیشن سے آج بھی 1.1 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ یہ سٹیشن سر گنگا رام نے نہر لوئر باری دوآب پر 1925 میں تعمیر کیا تھا۔ کیا اس نہر پر ہر پانچ کلومیٹر پر اس طرح کے چھوٹے سٹیشن نہیں بن سکتے؟ اس سوال کا جواب ہائڈل پاور پر تحقیق کرنے والے سائنسدان زیادہ بہتر انداز میں دے سکتے ہیں۔
اسی طرح آپباش علاقوں میں تقریبا ہر گاوں میں دو سے تین موگے نہروں سے نکلتے ہیں جہاں پانی اپنی پوری طاقت سے سر کے بل گرتا ہے۔ کیا اس توانائی کے ذریعے بجلی بنا کر دیہات روشن نہیں کئے جا سکتے؟ میں سمجھتا ہوں اس پر تحقیق کے بعد جامع منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔
تیسرا حل ہوائی توانائی ہے۔ میرا تعلق چونکہ ان علاقوں سے نہیں ہے جہاں ہوائی توانائی کے قوی امکانات ہیں لہزا اس حوالے سے میرا مشاہدہ براہ راست نہیں ہے لیکن میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہوائی توانائی میں ہمارے مسائل کا سستا، دیرپا اور پائدارحل موجود ہے۔ اور اسے تحقیق کا موضوع بنایا جانا چاہیے۔
مسئلہ صرف بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی وضع کرنے کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ ہے سستی اور ہمارے نظام زندگی سے مطابقت رکھنے والی ٹیکنالوجی وضع کرنا۔
ہم درآمد پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں اورہمارے ہاں کچھ بنانے کا رواج ویسے بھی کم ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تحقیقی کام کرنے والے اداروں کو تحقیقی رپورٹیں لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا بھی کرنا چاہیے جس سے ہمارے توانائی کے مسائل حل کرنےمیں واقعتا مدد ملے۔

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں