کیسے پتہ چلے گا کہ کپاس کا بیج تصدیق شدہ ہے؟

بیج خریدتے وقت تھیلی کے منہ کی طرف لگی ہوئی سلائی کو چیک کریں. اگر سلائی کے اندر ہلکے نیلے رنگ کا ٹیگ (پرچی) سِلا ہوا ہے تو سمجھ لیں کہ بیج تصدیق شدہ ہے.

بیج کی تھیلی کے ساتھ سلا ہوا ہلکے نیلے رنگ کا ٹیگ

دراصل یہ ٹیگ حکومتِ پاکستان کے محکمہ سیڈ سرٹیفیکیشن اور رجسٹریشن کی طرف سے جاری کیا ہوا ہوتا ہے. اور اس پر بیج کے متعلق ضروری کوائف لکھے ہوتے ہیں. یہ ٹیگ بیج کے تصدیق شدہ اور تسلی بخش ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے.

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ ٹیگ کیا ہے اور کہاں سے آتا ہے.
اب اس بات کو ذرا تسلی سے سمجھیں؟
ہوتا یوں ہے کہ جب سیڈ کمپنی بیج بنانے کے لئے کپاس کاشت کرتی ہے تو اپنی کاشت کی پوری تفصیل لکھ کر ضلع کی سطح پر موجود محکمہ سیڈ سرٹیفیکیشن اور رجسٹریشن کے دفتر میں جمع کرواتی ہے.
مثال کے طور پر ایک کمپنی نے تحصیل فیصل آباد میں تین مختلف جگہوں پر کپاس کاشت کر رکھی ہے تو کمپنی محکمے کو کاشت کا گاؤں، مربع نمبر اور کلہ نمبر وغیرہ تک کی تفصیل جمع کروائے گی.
حتی کہ یہ بھی بتائے گی کہ کس کس کلہ نمبر میں کون کون سی ورائٹی کاشت کی گئی ہے.
جب کپاس کی فصل قدرے جوان ہوجاتی ہے تو محکمے کا افسر (سیڈ انسپکٹر) موقع پر جا کر فصل کا معائنہ کرتا ہے اور اس بات کی تسلی کرتا ہے کہ کمپنی نے کپاس کی ورائٹیاں اپنے دعوے کے مطابق ہی کاشت کر رکھی ہیں اور فصل کی حالت بھی تسلی بخش ہے اور فصل اس قابل ہے کہ اس کی پیداوار کو بطور بیج استعمال کیا جاسکے.

اس کے بعد جب کمپنی کپاس کی چنائی کر کے بنولہ وغیرہ الگ کر لیتی ہے تو ایک دفعہ پھر محکمےکاافسر بیج کا معائنہ کرتا ہے اور حساب لگاتا ہے کہ کمپنی کے پاس حاضر موقع پر کس ورائٹی کا کتنا بیج ہے اور کیا یہ بیج صحت مند اور بہتر اگاؤ کا حامل ہے یا نہیں. بیج کی صحت اور اگاؤ کو چیک کرنے کے لئے محکمے کا افسر اپنی مرضی کی بوریوں سے تھوڑا تھوڑا بیج نکال کر اپنے دفتر لے جاتا ہے جسے باقائدہ لیبارٹری میں چیک کر کے تسلی کی جاتی ہے.

یوں سمجھیں کہ اگر ایک کمپنی کے پاس کپاس کی ورائٹی ایف ایچ 142 کی 20 ہزار تھیلی کے لئے اور ورائٹی ایف ایچ لالہ زار کی 10 ہزار تھیلی کے لئے بیج ہے تو محکمہ کمپنی کو الگ الگ یعنی ایف ایچ 142 کے 20 ہزار اور ایف ایچ لالہ زار کے 10 ہزار ہلکے نیلے رنگ کے ٹیگ جاری کر دے گا.
ذہن نشین رہے کہ ہر ٹیگ کے اوپر ورائٹی کا نام، ورائٹی کا لاٹ نمبر، پیداوار کا سال اور بیج کے اگاؤ کی شرح درج ہوتی ہے. اور اس کے علاوہ ٹیگ پر واضح کر کے گورنمنٹ آف پاکستان، فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن کے حروف انگریزی زبان میں لکھے ہوتے ہیں.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیگ والا بیج سو فی صد خالص اور تسلی بخش ہے؟
معاملہ کچھ یوں ہے کہ یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ ٹیگ لگا ہوا بیج ہر لحاظ سے شاندار ہوتا ہے. البتہ ایک بات طے ہے کہ ٹیگ والے نظام کی بدولت کمپنیاں ممکن حد تک کوشش کرتی ہیں کہ ان کا بیج ہر لحاظ سے مستند، صحت مند اور اچھے اگاؤ والا ہو.
لہذا اس ساری گفتگو کے پیشِ نظر میں کسان حضرات کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ ممکن حد تک ٹیگ لگا ہوا بیج ہی خریدیں. کیونکہ ٹیگ شدہ بیج کے خالص اور صحت مند ہونے کے امکانات، بغیر ٹیگ والے بیج کے مقابلےمیں بہت زیادہ ہوتے ہیں.

میں امید کرتا ہوں کہ یہ مضمون پڑھنے کے بعد کسان حضرات صرف اور صرف نیلے ٹیگ والا تصدیق شدہ کپاس کا بیج ہی خریدیں گے.
راقم کسان حضرات کے لئے نیک تمنائیں رکھتا ہے.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد

اظہارِ تشکر
1. احمد سعد، پلانٹ بریڈر و مالک اپنا بیج کمپنی پنجاب
2. ڈاکٹر محمد کاشف، ماہرِ حشریات و مالک بابا فرید سیڈ کمپنی پنجاب

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں