فصلات کے لئے دو لاکھ تک بلا سود قرض حاصل کریں

کون کون قرضہ حاصل کر سکتا ہے؟

وہ کاشتکار جن کے پاس رقبہ ساڑھے بارہ ایکڑ یا اس سے کم ہے وہ حکومتِ پنجاب سے بلا سود قرضہ حاصل کر سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سکیم کے تحت مالکان کے علاوہ وہ کاشتکار جو ٹھیکے پر زمین لے کر کاشتکاری کر رہے ہیں یا وہ کسان جو کسی کی زمین پر مزارعے ہیں اس سکیم کے تحت قرض لے سکتے ہیں۔

کون کون سے کاشتکار یہ قرض حاصل نہیں کر سکتے ؟

اگر آپ کی زمین ساڑھے بارہ ایکڑ سے زیادہ ہے تو قرض نہیں ملے گا.
اگر آپ کی اراضی ریکارڈ سنٹر میں رجسٹریشن نہیں ہے تو قرضہ نہیں ملے گا.
اگر کسان نے کسی بھی بنک سے کسی بھی قسم کا قرضہ حاضر موقع پر لیا ہوا ہے تو قرضہ نہیں ملے گا۔
اگر آپ نے عدالت کو اپنی زمین کی فرد دے کر اپنے کسی عزیز دوست کی ضمانت دے رکھی ہے تو قرض نہیں ملے گا.
اگر کسی بھی سلسلے میں آپ کی زمین پلج ہے تو قرض نہیں ملے گا.

قرضہ حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

طریقہ بہت سادہ اور آسان ہے۔ آپ کو سب سے پہلے اپنی تحصیل میں واقع اراضی ریکارڈ سنٹرز پر جانا ہو گا۔
یاد رکھیں سنٹر پر جاتے ہوئے اپنا شناختی کارڈ ضرور ساتھ رکھیں۔ کیونکہ اس کے بغیر سنٹر میں کام نہیں چلے گا۔
سنٹر میں جا کر آپ کسی بھی نمائندے سے ملیں اور بتائیں کہ میں نے بلا سود قرض کی رجسٹریشن کروانی ہے۔
نمائندہ آپ کی رہنمائی کرے گا اور آپ کی رجسٹریشن ہو جائے گی۔

رجسٹریشن کے بعد قرضہ کب ملے گا؟
جیسے ہی رجسٹریشن ہوگی توسیعِ زراعت والوں کا کام ختم ہو جائے گا اور لاہور آفس و بنک کا کام شروع ہو جائے گا.
ضروری کارروائی کے بعد لاہور آفس کاشتکار کا نام اس کے ضلع میں موجود کسی بنک کو بھیج دے گا. اور بنک خود کاشتکار سے رابطہ کرے گا.
ضروری کاروائی کے بعد بنک کسان کو قرض جاری کر دے گا.
رجسٹریشن کے بعد کسان کو یہ قرضہ کتنے دنوں میں مل جائے گا؟ اس کے بارے میں یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا. بس یوں سمجھ لیں کہ آپ کی باری آنے پر آپ کو قرض مل جائے گا.

کاشتکار کو کتنا قرضہ ملے گا؟

رجسٹریشن کے بعد آپ کو 25 ہزار روپے فی ایکڑ ربیع کی فصلات کےلیے اور 40 ہزار روپے فی ایکڑ خریف کی فصلات کےلیے بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا۔ لیکن واضح رہے کہ آپ ربیع کے لئے ایک لاکھ 25 ہزار اور خریف کے لئے 2 لاکھ سے زیادہ قرضہ حاصل نہیں کر سکتے۔

ایک دفعہ رجسٹریشن کروا کر کتنے سال قرضہ ملتا رہے گا؟

ایک دفعہ رجسٹریشن کروانے کے بعد آپ کو مسلسل دو سال تک بلا سود قرضہ ملتا رہے گا۔
یعنی پرانا قرضہ واپس کریں اور بغیر کسی نئی رجسٹریشن کے دوبارہ قرضہ حاصل کر لیں۔
واضح رہے کہ لیا گیا قرضہ آپ کو ہر فصل کی پیداوار پر واپس کرنا ہو گا۔

کیا قرض لینے والوں کو کچھ اور بھی ملے گا؟

بلا سود قرض حاصل کرنے والے کاشتکاروں کو سمارٹ موبائل فون (جسے ٹچ موبائل بھی کہتے ہیں) حکومت پنجاب کی طرف سے مفت دئیے جائیں گے۔
اور جب آپ یہ موبائل حاصل کر لیں گے تو پھر آپ کو بنک میں جا کر خجل خراب ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ آپ کے موبائل پر خود بخود میسج آئے گا جسے دکھا کر آپ اسی طرح قرض کی رقم حاصل کر سکیں گے جیسے آپ بنک میں چیک دے کر پیسے حاصل کر لیتے ہیں۔

سمارٹ فون پر قرضہ حاصل کرنے کے علاوہ کیا سہولیات ہوں گی؟

سمارٹ فون میں موجود ایک سسٹم (ایپلیکیشنز) کے ذریعے کاشتکار، منڈی میں اجناس کی قیمتیں، موسم کا حال، فصلوں کے وقتِ کاشت ، سبسڈی ، زرعی کلینڈر، اور زرعی ٹی وی وغیرہ بھی دیکھ سکیں گے۔ کاشتکاروں کو یہ تمام معلومات محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی طرف سے فراہم کی جائیں گی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ کاشتکار حضرات بلا سود قرض کی اس سکیم سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے۔
شکریہ

مرکز/تحصیل بہاولنگر کے کاشتکار مزید معلومات اور راہنمائی کےلیے 03017686261 پر دفتری اوقات میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ دیگر اضلاع کے کاشتکار اپنے مرکز میں تعینات زراعت افسر سے رابطہ کریں۔
واضح رہے کہ ایگری اخبار کا کام کسان حضرات تک معلومات پہنچانا ہے. اس مضمون میں دی گئی معلومات حکومت کی موجودہ پالیسی کے عین مطابق ہیں.
البتہ کاشتکار کو قرضہ دلوانے، موبائل یا دیگر سہولیات مہیا کروانے میں ایگری اخبار کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے.

اس مضمون پر اپنی رائے دینے کے لئے یا ایگری اخبار سے رابطے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک Load/Hide comments پر کلک کریں

تحریر
1. محمد عامر اقبال زراعت آفیسر توسیع بہاولنگر
2. ڈاکٹر شوکت علی، ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Share Please

اپنا تبصرہ بھیجیں